سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران سے متعلق امریکی قرارداد کا مسودہ ویٹو کردیا

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی مدت میں توسیع سے متعلق امریکی قرارداد کا مسودہ ویٹو کردیا۔
سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق دونوں مستقل رکن ممالک نے اگست کے اواخر میں قرارداد کا متن پیش کیے جانے کے وقت ہی اس کی مخالفت کردی تھی۔ روس اور چین نے ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں بحال کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے نام نہاد ’اسنیپ بیک میکانزم‘ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
2015 کے ایران جوہری معاہدے، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے، کے تحت اس میکانزم کے ذریعے معاہدے کے کسی فریق کو یہ اختیار حاصل تھا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جاسکے۔
تاہم روس اور چین کا مؤقف ہے کہ اسنیپ بیک میکانزم اب مؤثر نہیں رہا کیونکہ JCPOA اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی مدت گزشتہ سال کے اختتام پر ختم ہوچکی ہے۔



