ٹرمپ کی 23 ممالک کی منشیات سے متعلق فہرست میں پاکستان بھی شامل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 ممالک کو بڑے منشیات کے پیداواری یا ترسیلی ممالک کی فہرست میں برقرار رکھا ہے، جس میں پاکستان، چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔ یہ فہرست 15 ستمبر 2026 کو امریکی صدر کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی صدارتی تعیین میں جاری کی گئی۔
فہرست میں افغانستان، بہاماس، بیلیز، بولیویا، برما، چین، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہونڈوراس، بھارت، جمیکا، لاؤس، میکسیکو، نکاراگوا، پاکستان، پاناما، پیرو اور وینزویلا شامل ہیں۔
امریکی صدر نے افغانستان، بولیویا، برما اور کولمبیا کو گزشتہ 12 ماہ کے دوران بین الاقوامی انسدادِ منشیات کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے والے ممالک قرار دیا، جبکہ وینزویلا کو اس مخصوص ’ناکامی‘ کی فہرست سے نکال دیا گیا۔
ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کو اس فہرست سے نکالنے کی وجہ کاراکاس کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں بہتری اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اقدامات ہیں۔
امریکی صدارتی تعیین میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی افیون کی کاشت روکنے اور سپلائی چین کنٹرول مضبوط بنانے کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کسی ملک کا ’میجر ڈرگ ٹرانزٹ یا ڈرگ پروڈیوسنگ‘ فہرست میں شامل ہونا لازماً اس کی حکومت کی انسدادِ منشیات کی کارکردگی یا امریکا کے ساتھ تعاون کی عکاسی نہیں کرتا۔ امریکی قانونی تعریف کے تحت جغرافیائی، تجارتی اور معاشی عوامل بھی اس درجہ بندی میں شامل ہوتے ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق افغانستان، بولیویا، برما اور کولمبیا کے بارے میں الگ سے ’failed demonstrably‘ کی تعیین کی گئی ہے، جبکہ پاکستان اس مخصوص کیٹیگری میں شامل نہیں ہے۔



