latest newsPoliticsWorld

برکس میں مصنوعی ذہانت پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ، چین کی اوپن سورس کمیونٹی کی تجویز

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض رہنماؤں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی بحث کے برعکس برکس ممالک نے اے آئی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے ’برکس اے آئی اوپن سورس‘ کمیونٹی قائم کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اس کمیونٹی کے قیام میں پہل کرے گا تاکہ رکن ممالک بڑے لینگویج ماڈلز کی مشترکہ تیاری اور استعمال، خصوصی تربیتی پروگرامز اور اے آئی سے متعلق ایک کھلا ماحولیاتی نظام تشکیل دے سکیں۔

شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ یہ تجویز برکس ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت اور صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے اعلان کردہ پانچ اقدامات میں شامل ہے۔

برکس مصنوعی ذہانت کو صرف معاشی ترقی کے ذریعے کے طور پر نہیں بلکہ پائیدار ترقی، عدم مساوات میں کمی اور ترقی پذیر ممالک کی تکنیکی خودمختاری کے لیے بھی اہم قرار دے رہا ہے۔

برکس پالیسی سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق تنظیم کی ابھرتی ہوئی اے آئی حکمت عملی میں گورننس و اخلاقیات، معاشی تبدیلی، روزگار و سماجی اثرات اور بین الاقوامی تعاون اہم شعبے ہیں۔

برکس ممالک انسانی حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور معلومات کی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دار اور جامع اے آئی گورننس کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر اے آئی کے ضابطہ کار نظام میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر بھی زور دیتے ہیں۔

برکس کے اے آئی ایجنڈے میں ڈیجیٹل خودمختاری کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا، خدمات اور ٹیکنالوجی کے بنیادی نظام پر مؤثر اختیار اور اثرورسوخ حاصل ہونا چاہیے۔

برکس ممالک مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے کارکنوں کے تحفظ، نئی مہارتوں کی تربیت اور ایسی پالیسیوں پر بھی زور دے رہے ہیں جو سماجی شمولیت اور معاشی مواقع کو فروغ دیں۔

چین اور برازیل برکس کے اندر اے آئی تعاون کو آگے بڑھانے والے اہم ممالک میں شامل ہیں۔ برازیل کے قومی مصنوعی ذہانت منصوبے کے تحت 2028 تک 23 ارب برازیلی ریئال کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مئی 2025 میں چین اور برازیل نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس میں علم و تجربات کا تبادلہ اور مشترکہ اے آئی لیبارٹری کے قیام سمیت تحقیق و جدت کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔

چین نے برکس رکن ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے فروغ اور تعاون کے لیے چائنا-برکس اے آئی کوآپریشن سینٹر بھی قائم کیا ہے۔

مجموعی طور پر برکس کا اے آئی ایجنڈا محض موجودہ ٹیکنالوجی کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ رکن ممالک کی تکنیکی، قانونی اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی عالمی ترقی، استعمال اور گورننس میں ترقی پذیر ممالک کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button