بحران ختم ہونے کے بعد چین، بھارت اور پاکستان میں ایل این جی کی طلب بڑھنے کا امکان

بنکاک میں ماہرین اور صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایل این جی کی موجودہ سپلائی بحران ختم ہونے اور نئی سپلائیز مارکیٹ میں آنے کے بعد چین، بھارت اور پاکستان میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی طلب کئی سال کی کم ترین سطح سے دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
امریکا ایران جنگ کے باعث قطر اور متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنی بیشتر ایل این جی برآمد نہیں کر پا رہے، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ شیل کے مطابق رواں سال اب تک مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 36 ملین ٹن ایل این جی کی سپلائی مارکیٹ سے کم ہوئی ہے۔
متبادل سپلائی کے حصول کے لیے ایشیائی ممالک میں مسابقت بڑھنے کے باعث اسپاٹ ایل این جی کی قیمتیں جنگ سے قبل تقریباً 10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 30 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
بھارتی کمپنی گیل کے چیئرمین دیپک گپتا کے مطابق بلند قیمتیں بھارت میں ایل این جی کی طلب کو متاثر کر رہی ہیں کیونکہ کئی شعبے قیمتوں کے حوالے سے حساس ہیں۔
پاکستان ایل این جی کے چیف ایگزیکٹو مسعود نبی نے بھی کہا کہ قیمتیں سازگار ہونے اور اضافی ایل این جی حجم مارکیٹ میں آنے کی صورت میں پاکستان میں طلب دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں شمسی توانائی کے فروغ سے بجلی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملی ہے، تاہم صنعتی شعبوں اور گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب بدستور موجود ہے۔



