جرمنی میں اے ایف ڈی کے خلاف بڑا احتجاج، 20 شہروں میں ڈیڑھ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے

برلن()جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کے خلاف ہفتے کے روز ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے، جن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔
منتظمین کے مطابق برلن، ہیمبرگ اور میونخ سمیت تقریباً 20 شہروں میں ہونے والے مظاہروں کا اہتمام اے ایف ڈی پر پابندی کی حمایت کرنے والی تنظیم ’پروف‘ کی جانب سے کیا گیا۔ مظاہرین نے ’’اے ایف ڈی پر اب پابندی لگاؤ‘‘ اور ’’جمہوریت کو متبادل کی ضرورت نہیں‘‘ جیسے نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
گزشتہ ہفتے مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں اے ایف ڈی نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کرکے واضح کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ حکمراں جماعت سی ڈی یو کو صرف 17 فیصد ووٹ ملے۔ اے ایف ڈی مطلق اکثریت سے صرف 3 نشستیں دور رہی اور اب دیگر جماعتوں اور ارکان سے حکومت سازی کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔
جرمنی میں اے ایف ڈی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ملک کے نازی ماضی کے باعث عوام اور سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ آئین مخالف عناصر کو حکومتی طاقت حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے۔
مہم گروپ ’کیمپیکٹ‘ کے سربراہ کرسٹوف باؤتز نے کہا کہ سول سوسائٹی کا وسیع طبقہ سڑکوں پر نکل آیا ہے تاکہ سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کو حکومتی اختیار حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔
برلن پولیس کے مطابق دارالحکومت میں کئی ہزار افراد نے مختلف مظاہروں میں شرکت کی، جبکہ اے ایف ڈی نے بھی جوابی مظاہرہ کیا، جس میں آئندہ علاقائی انتخابات کے لیے پارٹی کی مرکزی امیدوار کرسٹن برنکر نے شرکت کی۔ کیمپیکٹ کے مطابق ہیمبرگ میں تقریباً 25 ہزار جبکہ میونخ میں 12 ہزار افراد مظاہروں میں شریک ہوئے۔
جرمنی میں اے ایف ڈی پر پابندی کے مطالبات میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم قانونی طور پر پابندی عائد کرنے کے لیے سخت آئینی تقاضے موجود ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس، جو سینٹر رائٹ جماعت سی ڈی یو سے تعلق رکھتے ہیں، بھی فی الحال اے ایف ڈی پر پابندی کے اقدام کے حوالے سے شکوک و تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔



