latest newsWorld

یمن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی، حوثیوں کا المخا سمیت اہم علاقوں پر قبضے کا دعویٰ

صنعا: یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا سمیت حیس شہر اور خالد بن ولید فوجی کیمپ پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے 6 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔ عسکری ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع ذُقر جزیرے پر قبضہ کرلیا ہے۔

المخا کی بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب اہم جغرافیائی حیثیت کے باعث حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سعودی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے، جن کے جواب میں سعودی فورسز نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

گارجین کے مطابق سعودی فوج نے جمعرات کو حوثی اہداف پر تقریباً 40 فضائی حملے کیے، جبکہ 3 سے 7 ستمبر کے دوران کم از کم 15 حملے کیے جاچکے تھے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کا تحفظ ہے۔

یمنی حکومتی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل طارق صالح نے المخا کے جنوب میں فوجی پسپائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے دوبارہ منظم ہونے کے لیے محفوظ مقام کی طرف واپسی اختیار کی۔ تنازع پر نظر رکھنے والے ادارے ایکلیڈ کے مطابق پانچ روز کے دوران لڑائی میں 276 افراد ہلاک ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لڑائی حدیدہ اور تعز سمیت مختلف محاذوں پر مزید پھیل سکتی ہے، جبکہ حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی کو سعودی عرب اور امریکا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی قرار دیا جارہا ہے۔

یمن کی تازہ کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری راستہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ دونوں گزرگاہوں میں بیک وقت کشیدگی سے عالمی تجارت اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یمن میں حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی، سعودی عرب پر حملے اور جوابی فضائی کارروائیاں تنازع کو وسیع علاقائی بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھا رہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button