latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی نےپی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کردی، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ کو چیلنج کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو چار مقدمات میں ملوث کیا گیا ،فلک جاوید کو ایک فیک ویڈیو کیس میں ضمانت ملنے کے بعد اسی روز تھانہ ریس کورس کے 9 مئی کیس میں گرفتاری ڈال کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا، فلک جاوید کو سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جبکہ اسے اے ٹی سی عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ حاصل کیا گیا،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کو اے ٹی سی عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دیا ہوا ہے،وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ فلک جاوید کو آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے،اس پر جسٹس سید شہباز رضوی نے ریمارکس دیئے کہ درخواست کس طرح قابلِ سماعت ہے؟ آپ اے ٹی سی عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں،عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ ریمانڈ کیس کا فیصلہ نہیں کر رہی، فلک جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا، تاہم رہائی کے فوری بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا،ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق اس وقت فلک جاوید کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا ۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نے چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نیپرا وکیل کو جواب داخل کرنے کیلئے 2 اکتوبر تک مہلت دے دی،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وسیم مختار کو ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین نیپرا تعینات کیا گیا، جو نیپرا رولز ترمیمی ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی ہے، موجودہ چیئرمین کی تعیناتی ترمیمی ایکٹ کے سب سیکشن 3 اور سب سیکشن 5 کی خلاف ورزی ہے،درخواست گزار کے مطابق چیئرمین نیپرا کے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے سے 90 روز قبل نئے چیئرمین کی تعیناتی لازم ہے، تاہم سابق چیئرمین توفیق احمد فاروقی کی ریٹائرمنٹ سے قبل نئے چیئرمین کی تعیناتی نہیں کی گئی،درخواست میں مزید کہا گیا کہ سابق چیئرمین توفیق احمد فاروقی کی ریٹائرمنٹ کے 6 روز بعد نئے چیئرمین وسیم مختار کی تعیناتی عمل میں لائی گئی، جو قانون کے تقاضوں کے منافی ہے، استدعا ہے کہ موجودہ چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے اور کیس کے حتمی فیصلے تک انہیں چیئرمین کے عہدے پر کام کرنے سے روکا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ 2 اکتوبر کو سلیب سسٹم کی پالیسی عدالت کے روبرو پیش کی جائے،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے، 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہیں، تاہم سلیب سسٹم کے باعث بجلی کا بل دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سلیب سسٹم کے تحت بڑھا ہوا بجلی کا بل صارفین کو چھ ماہ تک بطور سزا بھیجا جاتا ہے، جبکہ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے، سزا دینے والا ادارہ نہیں،سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے، استدعاہے کہ عدالت بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو کالعدم قرار دے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے لیے 24 سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت و دیگر فریقین سےتحریری جواب طلب کر لیا،درخواست گزار کے وکیل ہارون دوگل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب نے 13 اگست کو 24 سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے لیے اشتہار جاری کیا جبکہ مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کی تاریخ 17 اگست مقرر کی گئی،مجوزہ سی ٹی سکین مشینیں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری یونٹس میں استعمال کے لیے بھی مطلوب ہیں، تاہم صرف سی ٹی اسکینر میں 32 سلائسز کی تعداد کارڈیک صلاحیت ثابت نہیں کرتی،درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ سی ٹی سکین مشینوں کی تکنیکی شرائط پنجاب سی ٹی پروکیورمنٹ رولز کے خلاف ہیں اور پی سی ون کی منظوری سے تجاوز کرتے ہوئے خریداری کا عمل شروع کیا گیا،استدعا ہے کہ 17 ستمبر کو ہونے والے سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت،اوگرا و دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی تفصیلات عوام سے چھپائی جا رہی ہیں، سرکاری ویب سائٹس پر بھی دونوں لیویز کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں، روزانہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ بھی عوام کو منتقل نہیں کیا جا رہا، استدعا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مکمل فارمولے، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، عوام کو معاشی استحصال سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی نے واپس لینے کی بنیاد پر ملاوٹ شدہ دودھ لے جانے والی گاڑی کی سپرداری کی درخواست مسترد کر دی،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ گاڑی مسروقہ اشیا کی حیثیت سے پکڑی گئی ہے، اس لیے اسے اس مرحلے پر سپرداری پر نہیں دیا جا سکتا، ٹرائل کورٹ ہی ٹرائل کے دوران گاڑی کی سپرداری کے معاملے کا فیصلہ کرے گی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فوڈ اتھارٹی نے چیکنگ کے دوران گاڑی سے ملاوٹی دودھ پکڑ کر ضائع کر دیا اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی، درخواست گزار کا ملاوٹ شدہ دودھ سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنی گاڑیاں کرائے پر دیتا ہے،وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے بھی گاڑی سپرداری پر دینے سے انکار کیا، لہٰذا ہائیکورٹ گاڑی سپرداری پر دینے کا حکم دے۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے نازیبا ویڈیو وائرل کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،عظمیٰ بخاری نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نازیبا ویڈیو وائرل کرنے سے متعلق کیس ٹرائل کورٹ میں زیرِ التوا ہے، صوبائی وزیر اہم عہدے پر فائز ہیں، جس کے باعث انہیں سکیورٹی خطرات لاحق ہیں،درخواست گزار کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرائل کورٹ میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ممکن نہیں، قانون میں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہونے اور بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت موجود ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج کردی، عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس شہباز رضوی نے 26 ہزار 991 بوری گندم کی مبینہ خرد برد کے مقدمے میں گرفتار 2 ملازمین کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ذیشان افضل سے خرد برد کی گئی گندم کی رقم برآمد ہوئی، جبکہ کمیشن شاپ کو فروخت کی گئی گندم کی خالی بوریاں بھی برآمد کی گئی ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اینٹی کرپشن عدالت میں ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع ہو چکا ہے؟سرکاری وکیل نے بتایا کہ ابھی کیس کا ٹرائل شروع نہیں ہوا،عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا چالان ٹرائل کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور سپلیمنٹری چالان عدالت میں پیش کیا گیا ہے،جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیے کہ جب ابھی ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا تو ملزمان کو ضمانت کے حق سے کیسے محروم رکھا جا سکتا ہے؟درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان محکمہ فوڈ کے ملازم ہیں اور پاکپتن سے عارف والا گندم کی منتقلی کے دوران خرد برد کا الزام عائد کیا گیا ہے،اینٹی کرپشن نے 26 ہزار 991 بوری گندم کی خرد برد کا مقدمہ درج کیا،وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کا گندم کی خرد برد سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کی،عدالت نے دلائل کے بعد دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔
9
لاہور (کورٹ رپورٹر)
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد پرویز نے بھابھی پر تشدد کیس میں ملزم عثمان اکرم کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کردی،مدعیہ اریج نعمان نے درخواست خارج ہونے پر احاطہ عدالت میں احتجاج کیا، مدعیہ نے ساہیوال پولیس کے تفتیشی پر رشوت کا الزام عائد کردیا،مدعیہ کی احاطہ عدالت میں دھمکی دی میں خودکشی کرلوں گی ،مجھے شوٹ کردیا جائے ۔

لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کنونشن کا انعقاد، وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہم نے 27 ستمبر کو نکلنا ہے ،ہم پرامن ہونگے،ہمارے مارچ کا منشور بھی انصاف مارچ ہے،آزاد عدلیہ ،آزاد الیکشن کمیشن کے لیے مارچ کررہے ہیں،وکلاء ہمارا ساتھ دیں عدلیہ ہمارے ساتھ ہوگی،ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے ہمارا ایک ہی مقصد ہے،ہمارا ایک ہی لیڈر ہے وہ بانی پی ٹی آئی ہے،کیا پاکستان کی تاریخ میں کوئی ہاؤس وائف اتنا عرصہ جیل میں رہی ہے،یہ غیر انسانی سلوک ہورہا ہے ایسا کسی دورے میں نہیں ہوا جو آج ہورہا ہے،ہم صرف انصاف چاہتے ہیں ہم عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں،

سینیٹر حامد خان نے کہا بانی پی ٹی آئی ملک کے سب سے بڑے لیڈر ہیں،بانی پی ٹی آئی پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کی شہرت کو کم نہیں کیا جا سکتا،بانی پی ٹی آئی بے گناہ ہیں،پاکستان کے چاروں صوبے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں،یہ سب جعلی حکمران اور سیاستدان ہیں،26ویں اور 27 ویں ترمیم آئین اور عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لئے لائی گئی،اس وقت عدلیہ سے کسی کو انصاف نہیں ملتا،جن کو منصف لگایا جا رہا ہے یہ انصاف دینے کے قابل نہیں ہیں،وقت آگیاھے سب نے مل کر ملک میں تبدیلی لانی ہے،وزیر داخلہ کہتا ہے نظام فیل ہو گیا ہے،اگر نظام فیل ہو گیا پھر تم سیٹ پر کیوں ہو،لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلاء نے ہمیشہ آئین و قانون کے لیے قربانیاں دی ہیں،لیکن اب وہ آواز نہیں آ رہی ہے،شاید وکلاء کو تقسیم کیا گیا ہے،بار اور بینچ ہمیشہ ایک پیج پر رہے ہیں،عدلیہ کو اگر آزاد کرنا ھے تو وکلاء کو ایک ہونا پڑے گا،عدلیہ کا وہ قد کاٹھ نہیں رہا بس تنخواہوں کو دیکھا،ہم نے 26ویں ترمیم کو روکنے کے لیے درخواست دائر کی،پاکستان کی 175 پارٹیوں میں سے کسی نے اقدام نہیں اٹھایا،اب عدلیہ کا یہ حال ہے وہ ایک ملاقات تک نہیں کروا سکتی،بانی پی ٹی کے کیسز بشریٰ بی بی کے کیسز نہیں لگے،ہمیں انصاف نہیں ملا پھر بھی ہم قانون کی بات کرتے ہیں،اختلاف رائے دبانے سے مسائل جنم لیتے ہیں ، وکیل ہمارا ساتھ د یں،پاکستان تحریک انصاف اس بات پر یقین رکھتی ہے بانی پی ٹی آئی نے کوئی ڈیل نہیں کی نہ کریں گے، ہم نے صرف یہ کہا بانی پی ٹی آئی کا علاج کروایا جائے یہ ان کا حق ہے، ہم بانی پی ٹی آئی کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں ہم قومی اسمبلی میں بھی بات کریںگے ،مسائل کا حل ٹی وی پر نہیں پارلیمان میں ہے ،ہمارے لئے سارے ادارے معتبر ہیں ،ہم نے عدالت سے آئین و قانون کے تحت درخواست کی ہے، بانی پی ٹی آئی پر تمام کیسز جھوٹے ہیں جب آزاد ججز آئیں گے انصاف ہو گا اوربانی پی ٹی آئی رہا ہو ںگے،

احتساب عدالت کے جج رانا محمد عارف نےسابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ و دیگر کیخلاف ترقیاتی منصوبوں بارے کرپشن ریفرنس میں نیب گواہان کو 22 اکتوبر کو طلب کرلیا،سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی عدالت کے روبرو پیش ہوئے،عدالت میں پرویز الہی کے نمائندے مختار رانجھا نے عدالت پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی۔

ایڈیشنل سیشن جج نورین انجم نے ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کی ان کی اہلیہ کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں ضمانت کنفرم کر دی، رانا انتظار حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ تشدد کے الزامات اور میڈیکل شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے،عدالت میں پیش میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق زینب کی جانب سے ظاہر کی گئی چوٹوں کو جعلی قرار دیا گیا، رپورٹ نے مقدمے کے بنیادی الزامات پر اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا انتظار حسین نے کہا کہ زینب کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی میڈیکل تیار کروانے کے معاملے پر قانونی کارروائی شروع کریں گے، کسی کے خلاف جھوٹے یا جعلی شواہد کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہونی چاہیئے اور اگر کسی نے مبینہ طور پر جعلی میڈیکل یا شواہد تیار کروا کر قانون کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کے خلاف قانون کا راستہ اپنایا جائیگا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے حکومت پنجاب کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف کائیٹ فلائنگ آرڈیننس /ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت دس روز کے لیے ملتوی کر دی،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہوم سیکرٹری پنجاب کی طرف سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت دیدی،درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ حکومت پنجاب نے اسمبلی کی موجودگی میں آرڈیننس جاری کیا، پتنگ بازی سے ماضی میں کافی ہلاکتیں ہو چکی ہیں، سپریم کورٹ بھی پتنگ بازی کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے، پتنگ بازی کی اجازت سے شہریوں کی دوبارہ ہلاکت کا خدشہ ہے، آئین ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، استدعا ہے کہ کائیٹ فلائنگ آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا جائے اور عدالت پتنگ بازی کی اجازت سے متعلق نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button