87 فیصد پاکستانی نکوٹین صارفین ویپس، پاؤچز پر پابندی کے بجائے مؤثر ریگولیشن کے حامی

لاہور (محمد کامران): پاکستان میں تمباکو اور نکوٹین استعمال کرنے والے بیشتر افراد نے سگریٹ کے متبادل مصنوعات، خصوصاً ویپس اور نکوٹین پاؤچز پر مکمل پابندی کے بجائے مؤثر حکومتی ضابطہ سازی کی حمایت کردی۔
قومی سطح پر کیے گئے نئے سروے کے مطابق 87 فیصد صارفین نے متبادل نکوٹین مصنوعات کے لیے قانونی اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی حمایت کی، جبکہ 86 فیصد کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھی جانے والی متبادل نکوٹین مصنوعات کو الگ انداز میں منظم کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 515 بالغ روزانہ یا ہفتہ وار تمباکو اور نکوٹین صارفین سے سروے کیا گیا۔ سروے عالمی تحقیقی و صارفین کی بصیرت فراہم کرنے والی کمپنی پروڈیج نے اینڈیٹ فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا۔
سروے میں 89 فیصد افراد نے نابالغوں کو نکوٹین مصنوعات سے دور رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی حمایت کی، جبکہ 86 فیصد صارفین کے مطابق مکمل پابندی کے بجائے مناسب ریگولیشن غیر قانونی مارکیٹ کے فروغ کو روکنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید 79 فیصد نے سگریٹ کے مقابلے میں متبادل نکوٹین مصنوعات پر کم شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کی۔
رپورٹ کے مطابق 87 فیصد صارفین ویپس اور ای سگریٹس جبکہ 83 فیصد نکوٹین پاؤچز سے آگاہ ہیں۔ تاہم نکوٹین اور سگریٹ نوشی کے نقصانات سے متعلق غلط فہمیاں بھی موجود ہیں۔ 69 فیصد جواب دہندگان کا اب بھی خیال ہے کہ سگریٹ نوشی سے ہونے والے کینسر کی بنیادی وجہ نکوٹین ہے، جبکہ 82 فیصد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تمباکو کے دھوئیں میں موجود عناصر ہی اصل نقصان دہ عامل ہیں اور نکوٹین اس کی بنیادی وجہ نہیں۔
معلومات کے ذرائع کے حوالے سے 93 فیصد صارفین نے دوستوں اور خاندان کو قابل اعتماد ذریعہ قرار دیا، جبکہ 80 فیصد نے ڈاکٹروں اور صحت عامہ کے ماہرین پر اعتماد کا اظہار کیا۔ حکومتی پالیسی سازوں پر اعتماد کی شرح 40 فیصد اور میڈیا پر اعتماد 43 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
اینڈیٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے بہت سے موجودہ تمباکو اور نکوٹین صارفین ایسے متبادل کی طرف منتقل ہونا چاہتے ہیں جنہیں وہ سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی صحت کے مفاد میں ایسی ریگولیشن ضروری ہے جو نوجوانوں کو تحفظ دے، قانونی مصنوعات کے لیے سخت حفاظتی معیار یقینی بنائے اور صارفین کو شواہد پر مبنی درست معلومات فراہم کرے۔
رپورٹ میں پالیسی سازوں کے لیے چار اہم سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں سگریٹ اور دھوئیں سے پاک نکوٹین مصنوعات کے لیے خطرے کی سطح کے مطابق مختلف قوانین، مصنوعات کے لازمی معیار، نوجوانوں کی رسائی روکنے کے لیے سخت اقدامات اور نکوٹین سے متعلق غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے وزارتِ صحت کی قیادت میں مربوط عوامی آگاہی مہم شامل ہیں۔



