پرویز مہدی : ایک عظیم گائیک کی یاد ، آواز جو درد بن کر گونجی اور دلوں میں اتر گئی
خالد منصور

کچھ آوازیں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں، دل میں اتر جاتی ہیں۔ کچھ گیت صرف سنے نہیں جاتے، یاد بن کر انسان کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ فن کار وقت کے کسی ایک موسم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ موسم بدل جانے کے بعد بھی اپنی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔

پرویز مہدی بھی ایسی ہی ایک آواز کا نام تھا۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سا سوز تھا جیسے کسی دور دیس سے آنے والی ہوا اپنے ساتھ کسی بچھڑے ہوئے شخص کی خبر لائی ہو۔ وہ غزل گاتے تو لفظوں کے درمیان چھپی اداسی جاگ اٹھتی، گیت گاتے تو محبت کا کوئی بھولا بسرا قصہ یاد آنے لگتا اور پنجابی لوک گیت چھیڑتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے پنجاب کے کھیتوں، پگڈنڈیوں اور دور تک پھیلے ہوئے آسمان نے انسانی آواز اختیار کرلی ہو۔
پرویز مہدی کی زندگی دراصل ایک ایسے فن کار کی داستان ہے جس نے سُر کو پیشہ نہیں، احساس بنایا۔14 اگست 1947ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے پرویز مہدی، ایسے گھرانے میں آنکھیں کھول رہے تھے جہاں موسیقی محض تفریح نہیں بلکہ زندگی کا ایک حصہ تھی۔ ان کے والد بشیر حسین راہی خود ریڈیو پاکستان سے وابستہ گلوکار تھے۔ یوں سُروں سے ان کی پہلی ملاقات کسی موسیقی کے مدرسے میں نہیں بلکہ اپنے گھر کی فضا میں ہوئی۔
بچپن میں جب دوسرے بچے کھیل کے میدانوں میں اپنی دنیا تلاش کر رہے تھے، پرویز مہدی کے لیے شاید دنیا کا سب سے خوب صورت کھیل آواز اور سُر کا تھا۔موسیقی ان کے لیے اجنبی زبان نہیں تھی۔ وہ گھر کے ماحول سے اسے سنتے، محسوس کرتے اور آہستہ آہستہ اس زبان میں بولنا سیکھتے گئے۔

لیکن محض قدرتی صلاحیت کسی فن کار کو بڑا نہیں بناتی۔ اس کے لیے ریاضت، استاد اور برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ پرویز مہدی کو یہ سب نصیب ہوا۔ ان کی فنی زندگی کا سب سے اہم باب اس وقت شروع ہوا جب انہیں عظیم غزل گائیک مہدی حسن کی شاگردی نصیب ہوئی۔ یہ محض استاد اور شاگرد کا تعلق نہیں تھا، یہ ایک چراغ سے دوسرے چراغ تک روشنی منتقل ہونے کا عمل تھا۔
مہدی حسن نے جس غزل گائیکی کو اپنی آواز سے ایک نئی رفعت دی تھی، پرویز مہدی نے اسی روایت میں تربیت حاصل کی۔ سُر کی نزاکت، لفظ کی حرمت، تلفظ کی شائستگی اور شعر کے باطن تک پہنچنے کا ہنر انہوں نے اپنے استاد سے سیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی آواز میں مہدی حسن کی روایت کی جھلک سنائی دیتی تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ پرویز مہدی نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔
کہا جاتا ہے کہ فن کار کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے استاد کی کتنی اچھی نقل کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ استاد سے پائی گئی تربیت کی روشنی میں اپنا راستہ کب تلاش کرتا ہے۔ پرویز مہدی نے یہ کر دکھایا۔انہوں نے اپنے استاد سے سیکھا، مگر اپنی آواز کو اپنا چہرہ بنایا اور پھر اسی نسبت سے پرویز حسن سے پرویز مہدی بن گئے۔

1968ء میں ریڈیو پاکستان سے ان کے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ہوا۔ وہ زمانہ آج کے ڈیجیٹل عہد سے بالکل مختلف تھا۔ نہ موبائل فون تھے، نہ یوٹیوب، نہ سوشل میڈیا۔ گلوکار کی آواز کو گھر گھر پہنچانے کا سب سے بڑا وسیلہ ریڈیو تھا۔ اور پھر ایک دن ریڈیو سے ایک آواز ابھری۔
"میں جانا پردیس…”
یہ محض ایک گیت نہیں تھا؛ یہ پرویز مہدی کی آواز کا تعارف تھا۔ اس آواز میں پردیس جانے والے شخص کی بے قراری بھی تھی، پیچھے رہ جانے والوں کی اداسی بھی اور جدائی کا وہ دکھ بھی جسے لفظوں میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔پرویز مہدی کی آواز نے جیسے ہی ریڈیو کی لہروں پر سفر شروع کیا، وہ آہستہ آہستہ لوگوں کے گھروں، دلوں اور یادوں کا حصہ بنتے گئے۔
پاکستانی لوک موسیقی کی تاریخ میں پرویز مہدی اور ریشماں کی آوازوں کا امتزاج ایک خوب صورت باب ہے۔"گوریے میں جانا پردیس” جیسے گیت میں دونوں آوازیں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی محسوس ہوتی ہیں۔ ریشماں کی آواز میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو تھی اور پرویز مہدی کی آواز میں جدائی کا سوز۔ دونوں آوازیں ملیں تو ایک ایسا احساس پیدا ہوا جو آج بھی سامع کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔
یہی پرویز مہدی کا کمال تھا کہ وہ غزل کی نزاکت سے نکل کر لوک موسیقی کی سادہ اور بے ساختہ دنیا میں داخل ہوتے تو اپنی شناخت گنواتے نہیں تھے۔ وہ جہاں جاتے، اپنی آواز کا رنگ ساتھ لے جاتے۔ اگر پرویز مہدی کے فنی سفر کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو شاید وہ لفظ "درد” ہوگا۔ وہ غزل گاتے تو یوں لگتا جیسے شعر صرف زبان سے ادا نہیں ہو رہا بلکہ دل سے گزر کر آواز میں ڈھل رہا ہے۔ ان کے ہاں غزل محض سُروں کا مجموعہ نہیں تھی۔ وہ شعر کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت تلاش کرتے تھے۔
محبت ہو تو اس کی بے قراری، ہجر ہو تو اس کی کسک، انتظار ہو تو اس کی خاموشی اور جدائی ہو تو اس کی اذیت۔ یہ سب ان کی آواز میں محسوس ہوتا تھا۔ ان کی آواز کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شور نہیں تھا، اثر تھا۔ وہ بلند آواز سے دل نہیں توڑتے تھے؛ دھیمی آواز میں دل کی کوئی بھولی بسری گرہ کھول دیتے تھے۔
پنجابی زبان ان کی آواز کو ایک اور رنگ عطا کرتی تھی۔ پنجابی گیتوں میں انہوں نے پنجاب کے روایتی جذبات، محبت، وچھوڑے اور انسانی رشتوں کی حرارت کو اپنی آواز دی۔ پنجابی شاعری کی سادگی اور موسیقی کی روانی ان کی آواز میں اس طرح گھلتی تھی کہ گیت مصنوعی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے گلوکار گیت نہیں گا رہا بلکہ اپنے دل کی بات کر رہا ہے۔

پرویز مہدی کے فنی سفر میں ملکۂ ترنم نورجہاں کے ساتھ گائیکی بھی ایک اہم حوالہ ہے۔ نورجہاں کی آواز اپنے اندر ایک پورا عہد سموئے ہوئے تھی۔ اس کے مقابل پرویز مہدی کی آواز میں نرمی، ٹھہراؤ اور سوز تھا۔دونوں نے جب پنجابی گیت "تک چن پیا جاندا ای” گایا تو دو مختلف آوازوں کے مزاج ایک خوب صورت سریلے رشتے میں بندھ گئے۔ نورجہاں کی شان اور پرویز مہدی کی سادگی، یہ امتزاج اپنے اندر ایک الگ حسن رکھتا تھا۔
پرویز مہدی کا فنی سفر صرف ریڈیو تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن، فلم اور موسیقی کی مختلف محفلوں میں اپنی آواز پیش کی۔ تقریباً تین دہائیوں پر محیط اس سفر میں انہوں نے غزل، گیت، لوک موسیقی اور فلمی نغمات سمیت مختلف اصناف میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
ان کی آواز کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک طرف کلاسیکی روایت سے جڑی غزل اور دوسری طرف پنجابی لوک گیت کی سادہ دنیا میں بھی اتنی ہی فطری محسوس ہوتی تھی۔ یہ آسان کام نہیں کیونکہ غزل اور لوک گیت دو الگ مزاج رکھتے ہیں لیکن پرویز مہدی نے دونوں کے درمیان اپنی آواز کا ایک پل بنا لیا تھا۔

موسیقی کی تربیت صرف گائیکی تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے سراج احمد قریشی سے ستار کی تعلیم بھی حاصل کی۔ شاید اسی لیے ان کی گائیکی میں سُر کے ساتھ تعلق محض آواز کا تعلق نہیں تھا۔ وہ سُر کو محسوس کرتے تھے، اس کے اتار چڑھاؤ کو سمجھتے تھے اور پھر اسے اپنی آواز میں منتقل کرتے تھے۔ ایک اچھا گلوکار شعر کو گاتا ہے، مگر ایک تربیت یافتہ فن کار شعر کے اندر موجود موسیقی کو بھی سن لیتا ہے۔ پرویز مہدی اسی دوسری قسم کے فن کار تھے۔
پاکستانی موسیقی کی دنیا میں ان کا عہد بڑے بڑے ناموں کا عہد تھا۔ مہدی حسن، غلام علی، نورجہاں، ریشماں اور دیگر عظیم فن کاروں کے درمیان اپنی الگ شناخت بنانا معمولی بات نہیں تھی۔ پرویز مہدی نے یہ مقام کسی مصنوعی تشہیر سے نہیں بلکہ اپنی آواز سے حاصل کیا۔ وہ ان فن کاروں میں سے تھے جن کے گیت شاید ہر محفل میں زیرِ بحث نہ آتے ہوں، مگر جب تنہائی میں کوئی پرانا ریکارڈ چلتا تو سننے والا خاموش ہو جاتا کیونکہ کچھ آوازوں کو سننے کے لیے ہجوم نہیں، تنہائی چاہیے۔

پرویز مہدی کی آواز پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہ رہی۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں بھی انہوں نے موسیقی کے پروگراموں میں شرکت کی اور بیرونِ ملک پاکستانی و جنوبی ایشیائی سامعین تک اپنی آواز پہنچائی۔ پردیسیوں کے لیے شاید ان کے گیتوں کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی تھی کیونکہ پردیس میں وطن کبھی زبان بن جاتا ہے، کبھی کوئی پرانا گیت اور کبھی کسی گلوکار کی آواز اور پرویز مہدی کی آواز میں تو خود پردیس کا درد موجود تھا۔
ملکی سطح پر ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں پرویز مہدی کو تمغۂ امتیاز سے سرفراز کیا گیا ۔ یہ اعزاز اس فن کار کے لیے ریاستی اعتراف تھا جس نے اپنی زندگی کے بہترین برس پاکستانی موسیقی کی خدمت میں گزار دیے تھے لیکن شاید پرویز مہدی کے لیے سب سے بڑا اعزاز کوئی سرکاری تمغہ نہیں تھا۔ ان کا اصل اعزاز وہ سامع تھا جو آج بھی ان کی آواز سنتے ہوئے چند پلوں کے لیے اپنے ماضی میں چلا جاتا ہے۔

29 اگست 2005ء کو لاہور میں حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث پرویز مہدی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایک آواز خاموش ہوگئی مگر کیا واقعی خاموش ہوئی؟ نہیں فن کار مرتا ہے، فن نہیں مرتا۔ جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، مگر آواز اگر دلوں میں جگہ بنا چکی ہو تو پھر اسے موت نہیں چھین سکتی۔ پرویز مہدی بھی اپنی آواز کے ذریعے آج تک ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کسی پرانے ریڈیو کی یاد میں، کسی خاموش رات میں، کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد میں، کسی پردیسی کے آنسو میں یا پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں میں بجتے ہوئے کسی پرانے گیت میں۔
پرویز مہدی کو صرف ایک غزل گائیک، لوک گلوکار یا فلمی گیت کے فن کار کے طور پر یاد کرنا شاید ان کے فن کو محدود کرنا ہوگا وہ دراصل احساس کے گلوکار تھے۔ ان کی آواز نے ملن کو بھی گایا اور جدائی کو بھی۔ انہوں نے خوشی کے گیت بھی گائے اور زخمی کے تار بھی چھیڑے ۔ انہوں نے اردو غزل کی تہذیب کو پنجابی لوک روایت کی مٹی سے ملایا اور ایک ایسا صوتی رنگ پیدا کیا جس میں کلاسیکی موسیقی کی تربیت بھی تھی اور عوامی جذبات کی سادگی بھی۔
پرویز مہدی کی آواز میں ایک عجیب سا سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے، جو چلے گئے، کیا وہ کبھی لوٹیں گے؟ شاید اسی لیے پرویز مہدی کے گیتوں کا اختتام نہیں ہوتا، گیت ختم ہو جاتا ہے، ساز تھم جاتے ہیں، سپیکر خاموش ہو جاتا ہے، مگر آواز دیر تک دل میں گونجتی رہتی ہے اور پرویز مہدی کی آواز تو شاید اسی لیے بنی ہے کہ وہ سنی نہ جائے، محسوس کی جائے۔ یہی پرویز مہدی کا فنی ورثہ ہے، یہی ان کی پہچان اور یہی پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں ان کا سب سے خوب صورت مقام ہے۔



