ایران کی امریکا کو دھمکی، آئندہ حملے کا جواب زیادہ تیز اور شدید ہوگا: ایرانی مذاکرات کار

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ملک کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر مزید حملے کی صورت میں جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔
ریاستی میڈیا سے گفتگو میں قالیباف نے کہا کہ امریکا کو سمجھ لینا چاہیے کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا زیادہ تیزی اور شدت سے جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی حملوں کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم دونوں امریکی جنگی جہاز حملے سے بچ نکلے۔
امریکا نے جوابی کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ایک جہاز کو جزیرہ خارک اور دوسرے کو جاسک کے قریب ناکارہ بنایا گیا، جبکہ تیسرے کو خلیج عمان میں مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تہران کی منظوری کے بغیر راستہ اختیار نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان چھ ماہ سے جاری تنازع کے دوران آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے لیے جوابی اقدامات کیے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام، بحریہ اور فضائیہ شدید متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھا ہے۔



