crimelatest news

گلگت، گندم اسمگلنگ سکینڈل، اینٹی کرپشن کورٹ کا تاریخی فیصلہ

محکمہ خوراک کے دو ملازمین سمیت تین افراد کو عمر قید اور 3 کروڑ روپے جرمانے کی سزا

گلگت ( تنویر احمد) اینٹی کرپشن کورٹ گلگت بلتستان نے سرکاری سبسڈائزڈ گندم کی غیر قانونی منتقلی اور بلیک مارکیٹنگ کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرمان کو عمر قید، مجموعی طور پر 3 کروڑ روپے جرمانے اور دیگر سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے۔ اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ گلگت بلتستان محمود الحسن نے کھلی عدالت میں کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر کے سینٹرل جیل مناور گلگت منتقل کرنے کی ہدایت کی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق کیس (Cr. Case No. 04/2024) میں استغاثہ نے بلا شک و شبہ جرم ثابت کیا۔ اسلام آباد سے گلگت لائی جانے والی سرکاری سبسڈائزڈ گندم سے بھرے دو ٹرک (نمبر GZR-512 اور GZR-412) خزانچی کے پاس سرکاری چالان جمع کرائے بغیر براہِ راست "نیو پاک فلور مل گورو (جگلوٹ)” اتار کر بلیک مارکیٹ کیے جا رہے تھے۔ اطلاع ملنے پر اینٹی کرپشن کی ٹیم نے چھاپہ مار کر کل 1,020 بوریاں (تقریباً 99,728 کلوگرام گندم) موقع پر برآمد کر کے مل کو سیل کر دیا۔

دوران تفتیش ڈرائیوروں نے انکشاف کیا کہ سول سپلائی ڈپو نومل کے انچارج احسان علی اور سی ایس ڈی اوشکھنداس کے انچارج صابر حسین نے انہیں سرکاری ڈپو کے بجائے گندم فلور مل پہنچانے کی فون پر ہدایات دی تھیں۔ مل مینیجر باسط علی نے بھی بغیر قانونی طریقہ کار کے گندم وصول کرنے کا اعتراف کیا۔

محکمہ اینٹی کرپشن کے اسپیشل پراسیکیوٹر دانش علی کی پیروکاری پر عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو عمر قید و دیگر سزائیں سنائیں عدالتی فیصلے کے مطابق مجرمان باسط علی، احسان علی اور صابر حسین کو دفعہ 409/34 PPC کے تحت عمر قید، جبکہ 406، 420 اور انسداد بدعنوانی ایکٹ (PCA 1947) کی مختلف دفعات کے تحت 7، 7 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں

۔ سرکاری ملازمین احسان علی اور صابر حسین کو رشوت/بدعنوانی (161 PPC) پر مزید 3 سال قید کی سزا دی گئی۔ (تمام سزائیں ایک ساتھ چلیں گی)۔

عدالت نے تینوں مجرمان پر فی کس 10 ملین (1 کروڑ) روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں نیلام کر کے رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جائے گی۔

انسداد بدعنوانی عدالت کے جج محمود الحسن نے فیصلے میں لکھا کہ گلگت بلتستان حکومت عوام کو 23 ارب روپے کی گندم سبسیڈی دے رہی ہے، جہاں عام مارکیٹ میں 14,000 روپے کی بوری عوام کو محض 2,000 روپے میں ملتی ہے۔

عدالت نے گندم کے نظام میں شدید بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درج ذیل امور پر انکوائری کا حکم دیا ہے عدالت نے گندم کی تقسیم کے فارمولے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ کس طریقہ کار کے تحت ملوں کو پسائی کے لیے گندم فراہم کر رہے ہیں؟ اسی طرح عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ ناردرن ایئریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن (نیٹکو) اسلام آباد سے گندم لانے کا کرایہ 23 روپے فی کلو لے رہی ہے لیکن مقامی ٹرانسپورٹرز کو صرف 7 روپے فی کلو ادا کیا جا رہا ہے، باقی رقم کہاں جا رہی ہے؟

عدالت نے سیکریٹری خوراک گلگت بلتستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈائریکٹر فوڈ گلگت اور ڈائریکٹر فوڈ دیامر/استور پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کریں جو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت کے رجسٹرار کو پیش کرے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button