column and articlelatest news

پنجابی زبان کی ترویج اور ثقافت کے فروغ میں ایف ایم 95 پنجاب رنگ کا کردار

میری بات/ روہیل اکبر

ایف ایم 95 پنجاب رنگ پر سینئر آر جے راشد حجازی کے ساتھ میرا پروگرام تھا یہ اس حوالہ سے بھی منفرد تھا کہ ہمارے اس پنجابی کے اکلوتے ریڈیو کی 19ویں سالگرہ ہے پروگرام میں جو باتیں ہوئی وہ قارئین کی نظر کرتا ہوں ۔

زبان کسی بھی قوم کی پہچان، تہذیب اس کی روح اور ثقافت اس کی تاریخ کا آئینہ ہوتی ہے۔ پنجابی زبان بھی ایسی ہی ایک خوبصورت، میٹھی اور قدیم زبان ہے جس کے دامن میں صوفیانہ فکر، محبت، رواداری، انسان دوستی اور امن کا بے پناہ خزانہ موجود ہے۔

بابا بلھے شاہ، حضرت سلطان باہو، بابا فریدالدین گنج شکر، وارث شاہ اور میاں محمد بخش جیسے عظیم صوفی شعرا نے پنجابی زبان کو اپنے کلام سے ایسی عظمت عطا کی کہ ان کا پیغام آج بھی دلوں کو گرما دیتا ہے۔ تاہم جدید دور میں مادری زبانوں کو زندہ رکھنے اور نئی نسل تک ان کی خوبصورتی پہنچانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے

اس حوالے سے ایف ایم 95 پنجاب رنگ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پنجابی زبان، پنجاب کی روایات، لوک ادب، موسیقی اور معاشرتی اقدار کو فروغ دینے کی گنجائش اور اہمیت نمایاں ہے ریڈیو کی اپنی ایک الگ دنیا ہے ٹیلی ویژن پر انسان تصویر دیکھتا ہے، سوشل میڈیا پر چند لمحوں کے لیے کسی مواد سے وابستہ ہوتا ہے لیکن ریڈیو کی آواز براہ راست دل سے رشتہ جوڑتی ہے جب کوئی آر جے اپنی مخصوص آواز، اپنائیت اور پنجابی لہجے میں سامعین سے مخاطب ہوتا ہے تو سننے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا اس سے بات کر رہا ہو یہی وہ خوبی ہے جس کے ذریعے ریڈیو پنجابی زبان کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے اور اس سے وابستہ محبت کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ایف ایم 95 پنجاب رنگ کی شناخت کو پنجابی زبان اور ثقافت کے فروغ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس نوعیت کے ریڈیو پلیٹ فارم کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

پنجابی زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی ورثہ ہے اس میں ماں کی لوری بھی ہے، کسان کی محنت بھی، مزدور کے پسینے کی کہانی بھی، دیہی زندگی کی سادگی بھی اور صوفیا کا پیغامِ محبت بھی اس ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پنجابی زبان کو صرف دیہی علاقوں یا مخصوص تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے شہری زندگی، تعلیمی سرگرمیوں، ادبی محفلوں اور جدید ذرائع ابلاغ میں بھی بھرپور جگہ دی جائے۔آج کی نوجوان نسل انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی دنیا میں رہتی ہے۔ انگریزی اور اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے

یہ کوئی بری بات نہیں، کیونکہ دوسری زبانیں سیکھنا علم اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے تاہم اپنی مادری زبان سے دوری ایک ایسا نقصان ہے جس کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب ہماری نئی نسل اپنے ہی لوک ادب، محاوروں، کہاوتوں اور بزرگوں کی زبان سے ناواقف ہونے لگتی ہے۔ایف ایم 95 پنجاب رنگ جیسے ادارے نوجوانوں کو پنجابی زبان سے جوڑنے کے لیے جدید انداز اپنا سکتے ہیں پنجابی محاوروں پر مختصر پروگرام، نوجوان گلوکاروں اور شاعروں سے گفتگو، پنجابی ادب کا تعارف، لوک کہانیوں کی پیشکش اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے خوبصورت الفاظ کی تشہیر ایسے اقدامات ہیں جو زبان کو دلچسپ اور قابلِ فہم بنا سکتے ہیں

اگر پنجابی زبان کو محض ماضی کی یادگار سمجھنے کے بجائے جدید زندگی کا حصہ بنایا جائے تو نوجوان اسے شوق سے اپنا سکتے ہیں۔پنجاب کی ثقافت کا ذکر ہو اور لوک موسیقی، ڈھول، بھنگڑا، گِدھا، ٹپے، ماہیا اور صوفی کلام کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ پنجاب کی موسیقی میں خوشی، دکھ، جدائی، محبت اور امید کے بے شمار رنگ موجود ہیں۔ یہی رنگ ہماری اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔ریڈیو ان اصناف کو محفوظ رکھنے اور نئے سامعین تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایف ایم 95 پنجاب رنگ پر اگر روایتی موسیقی کے ساتھ نوجوان فنکاروں کو بھی موقع دیا جائے، لوک گلوکاروں کے حالاتِ زندگی بیان کیے جائیں اور صوفی شعرا کے کلام کا مفہوم آسان زبان میں سمجھایا جائے تو سامعین کو صرف تفریح ہی نہیں بلکہ اپنی تاریخ اور تہذیب سے واقفیت بھی حاصل ہو سکتی ہے

یہ بھی ضروری ہے کہ ثقافتی پروگراموں میں پنجاب کے مختلف علاقوں کی نمائندگی ہو ماجھے، دوآبے، مالوے اور دیگر خطوں کے لہجوں، روایات اور لوک اصناف کو جگہ ملے تاکہ پنجابی ثقافت کی رنگا رنگی نمایاں ہو اور کسی ایک انداز کو پوری زبان کی نمائندگی نہ سمجھ لیا جائے اکثر ثقافت کو صرف پگڑی، کُرتے، کھسّے، روایتی کھانوں، میلوں اور موسیقی تک محدود کر دیا جاتا ہے حالانکہ ثقافت کا اصل تعلق ہمارے رویوں، اقدار اور اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ بزرگوں کا احترام، مہمان نوازی، رشتوں کی پاسداری، محنت کی عظمت، پڑوسیوں کے حقوق اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی پنجاب کی معاشرتی روایات کا حصہ ہیں۔

ریڈیو ان اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے ایسے پروگرام پیش کر سکتا ہے جن میں معاشرتی مسائل پر پنجابی زبان میں گفتگو ہو، بزرگوں کے تجربات سنے جائیں، دیہی زندگی کے مثبت پہلو سامنے لائے جائیں اور نوجوانوں کو اپنی ثقافتی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے اس طرح پنجابی زبان محض تفریح کی زبان نہیں رہے گی بلکہ معاشرتی شعور اور مثبت تبدیلی کا وسیلہ بھی بن سکے گی۔پنجابی زبان کے فروغ کا مطلب اردو یا کسی دوسری زبان کی مخالفت ہرگز نہیں پاکستان مختلف زبانوں، تہذیبوں اور روایات کا حسین گلدستہ ہے۔ اردو ہمیں قومی سطح پر جوڑتی ہے جبکہ پنجابی سمیت دیگر علاقائی زبانیں ہماری تہذیبی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ ایک باشعور معاشرہ اپنی تمام زبانوں کا احترام کرتا ہے اور ہر زبان کو اس کا جائز مقام دیتا ہے۔

ایف ایم 95 پنجاب رنگ اس حوالے سے ایسا مثبت پیغام عام کر سکتا ہے کہ اپنی مادری زبان بولنے پر فخر کیا جائے، دوسری زبانوں کا احترام کیا جائے اور زبان کو کسی کی قابلیت یا سماجی حیثیت ناپنے کا پیمانہ نہ بنایا جائے پنجابی بولنے والے کو کمتر سمجھنا یا پنجابی لہجے کا مذاق اڑانا دراصل ایک ثقافتی ورثے کی ناقدری ہے اس سوچ کو بدلنے کے لیے میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا آج ریڈیو کی کامیابی صرف ایف ایم نشریات تک محدود نہیں رہی۔ پروگراموں کے مختصر کلپس، پوڈکاسٹ، فیس بک ویڈیوز، یوٹیوب انٹرویوز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ایک ہی پیغام ہزاروں یا لاکھوں افراد تک پہنچ سکتا ہے

اگر ایف ایم 95 پنجاب رنگ اپنی پنجابی نشریات کے منتخب حصوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی پیش کرے تو بیرونِ ملک مقیم پنجابیوں اور پاکستان کی نوجوان نسل تک رسائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اس مقصد کے لیے باقاعدہ پنجابی ادبی پروگرام، مقامی فنکاروں کے انٹرویوز، پنجابی کتابوں کا تعارف، لوک دانش پر مبنی سلسلے اور پنجاب کے تاریخی مقامات پر خصوصی نشریات ترتیب دی جا سکتی ہیں۔

سامعین کو بھی دعوت دی جائے کہ وہ اپنے علاقے کے محاورے، لوک کہانیاں، پرانے گیت اور بزرگوں سے سنے ہوئے واقعات ریکارڈ کرکے بھیجیں اس طرح ریڈیو ایک نشریاتی ادارے کے ساتھ ساتھ عوامی ثقافتی یادداشت کو محفوظ کرنے کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔

ایف ایم 95 پنجاب رنگ کی انیسویں سالگرہ کے موقع پر یہ سوال اہم ہے کہ ہم اپنی زبان اور ثقافت کو آئندہ نسلوں کے لیے کس شکل میں چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ پنجابی صرف گھروں میں بزرگوں کی گفتگو تک محدود ہو جائے، یا یہ زبان ادب، موسیقی، تعلیم، صحافت اور جدید ذرائع ابلاغ میں بھی اپنا مقام برقرار رکھے؟

یہ موقع صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اس عزم کی تجدید کا بھی ہے کہ پنجابی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے مزید بامقصد پروگرام ترتیب دیے جائیں، نوجوانوں کو اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور پنجاب کے حقیقی ثقافتی ورثے کو محفوظ کیا جائے۔آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ زبانیں عمارتوں اور نعروں سے نہیں بلکہ بولنے والوں کی محبت، ادیبوں کی محنت، فنکاروں کی آواز اور اداروں کی مسلسل کوششوں سے زندہ رہتی ہیں۔

ایف ایم 95 پنجاب رنگ کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ پنجابی زبان کی مٹھاس، صوفیانہ پیغام اور پنجاب کی تہذیبی خوبصورتی کو زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچانے کے سفر کو مزید مضبوط کرے۔پنجابی ہماری مٹی کی خوشبو، ہمارے بزرگوں کی آواز اور ہماری شناخت کا قیمتی حصہ ہے اس خوشبو کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

(روہیل اکبر 03004821200 )

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button