فن پاروں کی خریداری میں جنریشن زی سب سے آگے، ایک کلکٹر کا اوسط خرچ 3 لاکھ 47 ہزار ڈالر

نیویارک: آرٹ بیسل اور سوئس بینک یو بی ایس کی جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق دولت مند جنریشن زی (Gen Z) کے افراد فن پاروں کی خریداری پر دیگر تمام نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے لیے 10 بڑی مارکیٹوں میں 3,100 دولت مند خریداروں کا سروے کیا گیا، جس کے نتائج کے مطابق جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے افراد نے 2025 اور 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران دیگر عمرانی گروہوں کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ رقم فن پاروں پر خرچ کی۔
تحقیق میں جنریشن زی کی عمر 20 سے 29 سال، ملینیئلز کی 30 سے 45 سال، جنریشن ایکس کی 46 سے 61 سال جبکہ بے بی بومرز کی عمر 62 سے 80 سال مقرر کی گئی۔ اخراجات کے لحاظ سے جنریشن زی پہلے، بے بی بومرز دوسرے اور ملینیئلز تیسرے نمبر پر رہے، جبکہ جنریشن ایکس کے افراد نے فن پاروں کی خریداری پر سب سے کم رقم خرچ کی۔
رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل جنریشن زی کے ایک کلکٹر نے گزشتہ سال اوسطاً 3 لاکھ 47 ہزار ڈالر فن پاروں پر خرچ کیے، جبکہ جنریشن ایکس کے افراد کا اوسط خرچ 79 ہزار ڈالر رہا۔ یوں جنریشن زی کے کلکٹرز کا اوسط خرچ جنریشن ایکس کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ تھا۔
سروے میں شامل جنریشن زی کے تقریباً 40 فیصد افراد نے بتایا کہ فن پارے جمع کرنے کے شوق کی بنیادی وجہ ان کے خاندان کا اثر و رسوخ ہے۔
یو بی ایس گلوبل ویلتھ مینجمنٹ کے چیف اکانومسٹ پال ڈونووَن کے مطابق نوجوان کلکٹرز بھی مصوری اور مجسمہ سازی جیسے روایتی فنون کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمالیاتی پسند ناپسند کے حوالے سے مختلف نسلوں میں مماثلت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً نصف خریدار فن پارے کی انفرادیت اور نایاب ہونے کو ماہرین یا دیگر کلکٹرز کی پسندیدگی سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
تحقیق میں دولت مند افراد کی تعریف ایسے لوگوں کے طور پر کی گئی جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت، جائیداد اور نجی کاروبار کے اثاثے نکالنے کے بعد، 2026 میں 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔
رپورٹ کے مطابق فن پاروں کی خریداری کے لیے تحقیق اور معلومات حاصل کرنے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2024 میں صرف 4 فیصد کلکٹرز اس مقصد کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرتے تھے، جبکہ اب یہ شرح بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق فنونِ لطیفہ کی مارکیٹ میں نوجوان دولت مند افراد کا بڑھتا ہوا کردار، روایتی فن پاروں میں دلچسپی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال آرٹ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔



