سکول کرکٹ سے قومی ٹیم تک، پی سی بی کا نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے کا منصوبہ

پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ گلی محلوں، اسکولوں اور مقامی میدانوں سے ایسے بے شمار کھلاڑی سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے آگے چل کر قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔ اصل چیلنج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس ٹیلنٹ کو بروقت تلاش کیا جائے، اس کی صلاحیت کو پہچانا جائے اور اسے تربیت کے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جو اسے اعلیٰ سطح کی کرکٹ تک لے جا سکیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اسکول کرکٹ کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی ہدایت پر پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فار اسکولز کے دوسرے سیزن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ افتتاحی میچ بیکن ہاؤس اور ایچیسن کالج کی ٹیموں کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی تھے۔ میچ کے بعد شائقین کے لیے میوزیکل کنسرٹ بھی رکھا گیا، جس میں راحت فتح علی خان نے شرکت کی، جبکہ شائقین کے لیے داخلہ مفت رکھا گیا۔
اس پروگرام کی اہمیت صرف افتتاحی تقریب یا چند بڑے اسکولوں کے مقابلوں تک محدود نہیں۔ پی سی بی نے رواں سال اس منصوبے کو گزشتہ سیزن کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 100 اضلاع کے 1400 اسکولوں سے تقریباً 21 ہزار طلبہ اس پروگرام کا حصہ بنیں گے اور مجموعی طور پر 2 ہزار 895 میچز کھیلے جائیں گے۔
گزشتہ سیزن میں 39 اضلاع کے 450 اسکولوں نے شرکت کی تھی۔ موجودہ توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسکول کرکٹ کو محض ایک محدود سرگرمی کے بجائے ٹیلنٹ تلاش کرنے کے وسیع پروگرام کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو اس کی جغرافیائی وسعت بھی ہے۔ گلگت سے گوادر اور فاٹا سے کشمیر اور لاڑکانہ تک مختلف علاقوں کے اسکول اس سرگرمی میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ فاٹا کے 124 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 80 سے زائد اسکولوں کی شرکت اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ان علاقوں کے نوجوان بھی اپنی صلاحیت بڑے پلیٹ فارم پر دکھا سکیں۔
صرف مقابلوں کا انعقاد کافی نہیں۔ اسی لیے پی سی بی نے 1400 اسکولوں میں سکلز ڈویلپمنٹ کیمپس بھی شامل کیے ہیں، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کی بیٹنگ، باؤلنگ، فیلڈنگ اور فٹنس پر کام کیا جائے گا۔ ریجنل اور ڈسٹرکٹ کوچز، جن میں سابق اور بین الاقوامی کرکٹرز بھی شامل ہیں، کھلاڑیوں کی تربیت کریں گے۔
پروگرام کا اگلا اہم مرحلہ ٹیلنٹ کو اگلی سطح تک پہنچانا ہے۔ اسکول کرکٹ کا سفر ڈسٹرکٹ سے ڈویژن، صوبائی اور پھر قومی سطح تک جائے گا۔ ستمبر اور اکتوبر میں ڈسٹرکٹ لیگ کے پول میچز، نومبر میں 100 ٹیموں کا ناک آؤٹ مرحلہ اور نومبر کے آخر سے دسمبر تک قومی مرحلہ منعقد ہوگا، جبکہ قومی فائنل 5 دسمبر کو شیڈول ہے۔
یہاں اس پروگرام کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔ ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے کامیابی صرف ٹرافی جیتنے کا نام نہیں۔ اگر وہ مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اسے انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کرکٹ، 16 ریجنل اکیڈمیز اور ریجنل کرکٹ تک رسائی کا موقع مل سکتا ہے۔ یوں اسکول کی سطح پر شروع ہونے والا سفر باقاعدہ کرکٹ ڈھانچے میں داخل ہونے کا راستہ بن سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہزاروں بچے کرکٹ کھیلنے کا خواب دیکھتے ہیں، ایسے پروگرام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ کتنے غیر معروف اور دور دراز علاقوں کے باصلاحیت کھلاڑی باقاعدہ نظام تک پہنچ پاتے ہیں۔ بڑے شہروں کے معروف اسکولوں سے ٹیلنٹ تلاش کرنا نسبتاً آسان ہے، اصل امتحان ان علاقوں تک پہنچنے کا ہے جہاں سہولیات محدود اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے مواقع کم ہیں۔
اسکول کرکٹ کو ملک بھر میں پھیلانے کی یہ کوشش اسی لیے اہم ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے کرکٹر کو صرف اس کے شہر، اسکول یا علاقے کی بنیاد پر نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر ایک دور افتادہ ضلع کا طالب علم اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے مناسب مقابلہ، کوچنگ اور آگے بڑھنے کا راستہ حاصل کر لیتا ہے تو وہ قومی کرکٹ کے نظام میں جگہ بنانے کی طرف پہلا قدم اٹھا سکتا ہے۔
بالآخر اسکول کرکٹ کا مقصد صرف مزید میچز کرانا نہیں بلکہ ٹیلنٹ کو تلاش کرنے سے لے کر اسے تربیت، مسابقت اور قومی سطح تک پہنچانے کا ایک مسلسل راستہ بنانا ہے۔ پی سی بی کے موجودہ منصوبے کی کامیابی اسی بات سے جانچی جائے گی کہ آنے والے برسوں میں اس پروگرام سے کتنے نوجوان کھلاڑی ابھر کر پاکستان کی نمائندگی تک پہنچتے ہیں۔



