column and articlePakistan

ارشد انصاری: صحافی برادری کی آواز، حقوق کی جدوجہد اور چھت کا خواب

خالدمنصور

صحافت محض خبر لکھنے، کیمرہ اٹھانے یا مائیک تھامنے کا نام نہیں۔ یہ معاشرے کے سوالات کو زبان دینے، عوام کے مسائل کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے اور حقِ اظہار کے لیے آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحافیوں کو پیشہ ورانہ دباؤ، معاشی مشکلات اور آزادیٔ اظہار کے مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، وہاں صحافتی تنظیموں کی قیادت کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ ارشد انصاری اسی تنظیمی جدوجہد کے حوالے سے لاہور کی صحافتی برادری میں ایک نمایاں نام ہیں۔

ارشد انصاری مختلف ادوار میں لاہور پریس کلب کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ وہ 2003 سے 2025 تک کے عرصہ میں 12 بار صدر منتخب ہوئے جبکہ 2025 کا انتخاب ان کی 13ویں مرتبہ صدارت تھی۔ حال ہی میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 

گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کو صحافت کے شعبے میں ان کی گرانقدر اور طویل المدتی خدمات کے اعتراف میں اس اعلیٰ سول اعزاز سے سرفراز کیا۔

ارشد انصاری کی صحافتی تنظیمی زندگی کا ایک اہم پہلو صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ ان کی قیادت میں لاہور پریس کلب محض ایک ملاقات گاہ یا صحافتی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر نہیں بلکہ صحافیوں کے اجتماعی مسائل کے اظہار کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی سامنے آتا رہا ہے۔

2021 میں دو صحافیوں (عمران شفقت اور عامر میر) کی گرفتاری کے معاملے پر ارشد انصاری کی قیادت میں سینئر صحافی ایف آئی اے دفتر پہنچے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کی رہائی کے لیے متعلقہ حکام سے کامیاب مذاکرات کیے۔

اسی طرح 2025 میں پیکا ترمیمی قانون کے خلاف صحافیوں کے احتجاج میں بھی لاہور پریس کلب کا پلیٹ فارم فعال رہا۔ لاہور میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں ارشد انصاری، جو اس وقت لاہور پریس کلب کے صدر اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل تھے، نے صحافیوں کے حقِ اظہار اور آزادیٔ صحافت سے متعلق مؤقف پیش کیا۔

یہ جدوجہد اس وسیع تصور سے جڑی ہوئی ہے کہ صحافی کے حقوق دراصل عوام کے حقِ معلومات اور حقِ اظہار سے بھی وابستہ ہیں۔ ایک محفوظ اور باوقار صحافتی ماحول ہی صحافی کو دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کا حوصلہ دیتا ہے۔

ارشد انصاری کی تنظیمی جدوجہد کا ایک نہایت اہم پہلو صحافی کالونی ہے۔ صحافی معاشرے کو گھروں، محنت کشوں، عام شہریوں اور بے گھر افراد کے مسائل پر رپورٹنگ کرتا ہے، لیکن خود ایک مستقل اور باعزت رہائش کی تلاش میں ہو تو اس کی مشکلات کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

اسی لیے لاہور کے صحافیوں کے لیے رہائشی سہولت کا حصول محض ایک ہاؤسنگ سکیم نہیں بلکہ صحافتی برادری کے سماجی تحفظ کا مسئلہ ہے۔

لاہور پریس کلب اور پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے معاملات میں ارشد انصاری کی مسلسل دلچسپی اسی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے۔ صحافی کالونی کے ایف بلاک کے ترقیاتی کاموں کے معاملے میں انہوں نے اس تجویز کی مخالفت کی کہ ترقیاتی اخراجات براہِ راست الاٹیز پر ڈالے جائیں۔ ان کی کوشش کے بعد پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے مطلوبہ رقم فراہم کرنے اور ایل ڈی اے کے ذریعے ترقیاتی کام مکمل کرانے کی راہ نکلی، جس سے الاٹیز پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ ہوا۔

یہ اقدام اس اعتبار سے قابلِ ذکر ہے کہ صحافیوں کو صرف پلاٹ الاٹ کرنا کافی نہیں؛ اس پلاٹ کو قابلِ رہائش بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پانی، بجلی، نکاسیٔ آب، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات کے بغیر رہائشی سکیم محض کاغذی منصوبہ رہ جاتی ہے۔ صحافی کالونی کے ان بنیادی مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانا بھی ارشد انصاری کی تنظیمی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

صحافی کالونی کے معاملے میں ان کی کوششیں صرف موجودہ الاٹیز تک محدود نہیں رہیں بلکہ فیز ٹو کے معاملے کو بھی آگے بڑھانے پر توجہ دی گئی۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق فیز ٹو کے لیے پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایکٹ کے تحت زمین فراہم کرنے اور حقدار صحافیوں کو پلاٹس دینے کا طریقہ کار زیرِ غور رہا، جبکہ صحافیوں سے زمین کی قیمت کے بجائے صرف ترقیاتی اخراجات وصول کرنے کی تجویز سامنے آئی۔

یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ صحافیوں کے لیے گھر کا مسئلہ صرف موجودہ نسل کے صحافیوں کا نہیں۔ ایک مضبوط ہاؤسنگ پالیسی مستقبل میں آنے والے صحافیوں کو بھی معاشی استحکام اور سماجی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

ارشد انصاری کی کاوشوں کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ صحافی کالونی کو صرف رہائشی پلاٹوں کا مجموعہ بنانے کے بجائے ایک مکمل کمیونٹی کے طور پر دیکھا گیا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کالونی کے کمرشل ایریا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مزید ترقیاتی کاموں، کمیونٹی سینٹر، ہسپتال اور اسکول جیسے منصوبوں پر خرچ کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔

یہ تصور صحافیوں کے لیے صرف چھت فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر انہیں ایک ایسا ماحول دینے کی کوشش ہے جہاں ان کے خاندانوں کے لیے تعلیم، صحت، کاروبار اور اجتماعی سرگرمیوں کی سہولت بھی موجود ہو۔

کسی صحافتی تنظیم کے صدر کا بار بار منتخب ہونا محض ایک انتخابی عدد نہیں ہوتا۔ یہ اس تنظیم کے ارکان کی طرف سے مسلسل اعتماد کا اظہار بھی سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ ہر انتخاب کے اپنے سیاسی، تنظیمی اور گروہی عوامل ہوتے ہیں۔

ارشد انصاری کی 13ویں مرتبہ صدارت اس طویل تنظیمی سفر کی علامت ہے۔ ان کی قیادت کے مختلف ادوار 2003 سے 2025 تک پھیلے ہوئے ہیں، جس سے ان کی صحافتی تنظیم سازی میں طویل وابستگی واضح ہوتی ہے۔

ان کے حامیوں کے لیے اس تسلسل کی اہم وجہ شاید یہ ہے کہ وہ صحافیوں کے روزمرہ مسائل کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں انتظامی اور حکومتی سطح پر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحافی کالونی کے معاملات میں ان کی مسلسل پیروی، صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر ردعمل اور آزادیٔ اظہار کے معاملات میں کلب کے پلیٹ فارم کو فعال رکھنا ان کے تنظیمی کردار کے نمایاں پہلو ہیں۔

ارشد انصاری کے کردار کو صرف لاہور پریس کلب کی صدارت کے منصب تک محدود کرکے دیکھنا اس تصویر کا ایک حصہ ہوگا۔ ان کی تنظیمی سرگرمیوں میں صحافی کے وقار، اس کے پیشہ ورانہ حقوق، آزادیٔ اظہار اور معاشی و سماجی تحفظ کے سوالات ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

صحافی معاشرے کی آواز بنتا ہے، مگر اس آواز کو مضبوط رکھنے کے لیے خود صحافی کا محفوظ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافی کالونی میں ایک باعزت چھت کا حصول بھی صحافتی حقوق کی جدوجہد کا حصہ بن جاتا ہے۔

قلم کی آزادی کے ساتھ قلم کار کی چھت، یہی وہ تصور ہے جس نے لاہور کے صحافیوں کے لیے صحافی کالونی کے خواب کو محض ایک ہاؤسنگ منصوبے کے بجائے ایک اجتماعی فلاحی جدوجہد بنا دیا ہے۔ ارشد انصاری کی تنظیمی زندگی کا یہ پہلو انہیں لاہور کی صحافتی برادری میں ایک ایسے رہنما کے طور پر نمایاں کرتا ہے جس نے صحافی کے پیشہ ورانہ حق کے ساتھ اس کے سماجی تحفظ کے مسئلے کو بھی اپنی ترجیحات میں جگہ دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button