مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ کے خلاف جارحیت قابل مذمت ہے: ایران

تہران: ایران نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات اور زائرین کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عربی زبان میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے کسی ڈرون کو مار گرانے کا محض دعویٰ کسی فریق پر الزام عائد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ان کے مطابق یمن کی حکومت نے بھی اس دعوے کی تردید کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلامی مقدس مقامات کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے سیکیورٹی کا مسئلہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کو اختلافات پیدا کرنے یا خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں خطے میں فالس فلیگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کا مقصد ان کے بقول امریکا اور اسرائیل کے جرائم سے عوام کی توجہ ہٹانا اور اسلامی ممالک میں اختلافات پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔
ایرانی بیان سعودی عرب کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ منگل کی شام حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی سمت ایک ڈرون لانچ کیا، جسے سعودی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کردیا۔ حوثیوں نے سعودی دعوے کی تردید کی ہے۔
سعودی عرب کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو اس وقت روک کر تباہ کیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوا۔
ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ ڈرون کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ان کے مطابق یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی، جبکہ اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی تھی۔



