Businesslatest news

ڈیجیٹل اثاثوں کے مستقبل کی تشکیل کیلئے عالمی ضابطہ سازی ضروری ہے: بلال بن ثاقب

اسلام آباد: وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں پر محض بحث سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کو منظم کرنے کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیں۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ’’پائیدار ترقی کیلئے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین‘‘ کے موضوع پر اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی ڈھانچے کو شمولیت، کارکردگی اور رسائی کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔

اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور آفس آف دی سیکریٹری جنرلز اینوائے آن ٹیکنالوجی کے تعاون سے کیا۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ اربوں افراد مہنگی ترسیلات زر اور محدود قرضوں کے باعث غیر مساوی مالیاتی مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 200 ڈالر کی سرحد پار ترسیل کی اوسط لاگت پائیدار ترقی کے ہدف کے تحت مقرر کردہ 3 فیصد کی سطح سے اب بھی دو گنا سے زیادہ ہے۔ اس فرق کو کم کرکے ہر سال اربوں ڈالر براہ راست خاندانوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل فنانس کی صلاحیت صرف ادائیگیوں تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل شناخت اور قابل تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کو روایتی ضمانت یا دستاویزات کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے بانڈز سے لے کر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں تک مختلف اثاثوں کو حصوں میں تقسیم کرکے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، جبکہ ڈسٹری بیوٹڈ لیجرز سرکاری اخراجات اور سپلائی چینز میں شفافیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو ہر مسئلے کا خودکار حل تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈیجیٹل فنانس میں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، اختیارات کے ارتکاز اور ایسے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق جیسے خطرات بھی موجود ہیں جن کے پاس جدید ریگولیٹری صلاحیتیں ہیں اور جن کے پاس یہ صلاحیتیں محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضابطہ سازی کو جدت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ تاخیر سے بنائے گئے قوانین صارفین اور مارکیٹوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ خوف کی بنیاد پر بنائی گئی سخت پالیسیاں سرگرمیوں کو کم شفاف ماحول کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ ریگولیشن کو مارکیٹ روکنے کے بجائے مارکیٹ بنانے کے عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button