column and articlelatest news

چودہ نومولودوں کی چیخیں اور خاموش نظام

میری بات/روہیل اکبر

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پورے نظامِ حکومت، صحت کے شعبے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر ایک خوفناک سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ بچے تھے جنہوں نے ابھی دنیا میں آنکھیں بھی پوری طرح نہیں کھولی تھیں، جنہوں نے ابھی اپنی ماں کی گود میں سکون سے سانس بھی نہیں لیا تھا، مگر ایک ایسے ہسپتال میں ان کی زندگیاں آگ کی نذر ہوگئیں جہاں زندگی بچانے کا انتظام ہونا چاہیے تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں ائیرکنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وہاں موجود آکسیجن نے آگ کی شدت بڑھا دی۔ سرکاری طور پر تحقیقات جاری ہیں، اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری کے بعد ہی ہونا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر آگ لگ سکتی تھی تو آگ بجھانے کا مؤثر نظام کہاں تھا؟ ایمرجنسی راستے، فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، تربیت یافتہ عملہ اور نوزائیدہ بچوں کو فوری منتقل کرنے کا منصوبہ کہاں تھا؟ اگر ایک انتہائی حساس وارڈ میں آگ لگنے کے بعد چودہ بچے بچ نہ سکے تو پھر اس نظام پر اعتماد کیسے کیا جائے؟سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہسپتالوں میں آگ لگنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔

8 جون 2024 کو ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے پیڈیاٹرک میڈیسن وارڈ میں شارٹ سرکٹ اور ائیرکنڈیشننگ سسٹم سے متعلق آگ کے واقعے میں 11 بچے جان سے گئے تھے۔ مئی 2023 میں لاہور کے چلڈرنز ہسپتال کے پیڈیاٹرک نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے ایک نومولود جاں بحق اور دوسرا جھلس گیا۔ فروری 2024 میں کراچی کے سندھ گورنمنٹ ہسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آگ سے چار ملازمین جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف ایک ہسپتال یا ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام کا ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ساہیوال کے سانحے کے بعد کیا سبق سیکھا گیا؟ لاہور کے واقعے کے بعد کیا ملک بھر کے نرسری وارڈز، آئی سی یوز اور آکسیجن سے چلنے والے یونٹس کا فائر آڈٹ ہوا؟ کراچی اور پشاور کے واقعات کے بعد کیا تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو سختی سے فائر سیفٹی قوانین پر عمل کا پابند بنایا گیا؟ اگر نہیں، تو پھر پمز میں ہونے والی یہ ہلاکتیں محض حادثہ نہیں بلکہ سبق نہ سیکھنے کی اجتماعی قیمت ہیں۔

وزیراعظم کی ابتدائی میٹنگ میں وفاقی سیکریٹری صحت کو میٹنگ سے نکالنے اور بعد میں معطل کرنے کی کارروائی بظاہر سخت حکومتی ردعمل ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سے کیا ثابت ہوا؟ کیا چودہ بچوں کی جانوں کا حساب صرف ایک افسر کو میٹنگ سے نکالنے سے پورا ہوجائے گا؟

کیا یہ محض کیمرے کے سامنے غصے کا اظہار تھا یا واقعی پورے نظام کا احتساب ہوگا؟ وزیراعظم کے سامنے وفاقی سیکریٹری تو موجود تھا، لیکن اس سیکریٹری کے سامنے وہ نظام کہاں تھا جو برسوں سے ہسپتالوں کی حفاظتی خامیوں کو نظر انداز کرتا رہا؟ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد سب سے پہلے انکوائری کمیٹی بنتی ہے، پھر چند دن تک میڈیا پر شور رہتا ہے، ذمہ داروں کی معطلی کی خبریں آتی ہیں، اعلیٰ شخصیات افسوس کا اظہار کرتی ہیں اور پھر چند ہفتوں بعد سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔ لیکن جن والدین کے بچوں کی لاشیں ان کے ہاتھوں میں دی گئی ہوں، ان کے لیے زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔

سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کا بھی ایک معیار ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بڑے سانحات کے بعد وزراء صرف اس لیے استعفیٰ دیتے ہیں کہ ان کے ماتحت اداروں میں اتنی بڑی ناکامی کیوں ہوئی۔ ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔ وزیر تعزیتی بیان جاری کرتا ہے، وزیراعظم اجلاس کی صدارت کرتے ہیں، افسر معطل ہوتا ہے، کمیٹی بن جاتی ہے اور چند دن بعد نئی خبر پرانی خبر کو دفن کر دیتی ہے۔ مگر کیا کسی وزیر نے کہا کہ اگر میری وزارت کے زیرانتظام ادارے میں چودہ نومولود جل کر مر گئے ہیں تو میں اخلاقی ذمہ داری قبول کرتا ہوں؟

وفاقی وزیر صحت کا یہ کہنا اہم ہے کہ تحقیقات میں جس کی غفلت ثابت ہوئی اسے نہیں چھوڑا جائے گا، لیکن عوام صرف وعدے نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ ذمہ داری کا دائرہ اس سطح تک جانا چاہیے جہاں بجٹ کی منظوری، فائر سیفٹی کی نگرانی، مشینری کی دیکھ بھال، عمارت کی منظوری اور عملے کی تربیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔پمز کا سانحہ ایک قومی المیہ ہے۔ چودہ ننھی قبروں نے حکومت، وزارتِ صحت اور ہسپتال انتظامیہ سے ایک سوال پوچھا ہے: اگر نومولود بھی سرکاری ہسپتال میں محفوظ نہیں تو پھر محفوظ کون ہے؟

اب وقت صرف تعزیت، غصے، معطلی اور انکوائری کا نہیں۔ ملک بھر کے تمام بڑے ہسپتالوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے، ہر نرسری اور آئی سی یو میں فعال فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم لازمی ہونا چاہیے، آکسیجن یونٹس کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے جائیں، ایمرجنسی راستوں کو ہر وقت کھلا رکھا جائے اور ہر چھ ماہ بعد فائر ڈرل کو لازمی قرار دیا جائے۔ورنہ ہم ایک بار پھر کسی ہسپتال کے باہر کھڑے ہوں گے، کسی ماں کی چیخ سنیں گے، کسی باپ کے ہاتھ میں ننھا سا کفن ہوگا، حکمران اجلاس کر رہے ہوں گے، افسر معطل ہورہا ہوگا اور ہم پھر پوچھ رہے ہوں گے کہ قصور کس کا تھا؟
کیا اگلی آگ لگنے سے پہلے ہم جاگ جائیں گے؟

(روہیل اکبر 03004821200)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button