
ٹرمپ کا امریکا میں شرعی قانون پر پابندی کی حمایت کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کے خلاف پابندی کی حمایت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں صرف ایک ہی قانونی نظام ہونا چاہیے۔
قدامت پسند ریڈیو میزبان گلین بیک کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ لندن اور پیرس کے بعض علاقوں میں شرعی قانون ایک الگ طرز زندگی کی صورت اختیار کرچکا ہے، جبکہ امریکا میں بھی بعض مقامات پر ایسا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جہاں بھی امریکا میں شرعی قانون نظر آئے گا، اسے ختم کیا جائے گا۔ ان کے بقول امریکا میں ایک ہی نظام ہونا چاہیے اور ملک کے پاس ایک بہترین قانونی نظام موجود ہے۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور امریکا اس راستے سے متعدد بحری جہاز گزار رہا ہے، جبکہ تمام بارودی سرنگیں بھی ختم کردی گئی ہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی عسکری اور اقتصادی دباؤ مؤثر ثابت ہورہا ہے اور امریکا کو ایران کے خلاف بڑی کامیابی ملنے والی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی ہیں تاہم ہلاک نہیں ہوئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم اگر ایسا ہوا بھی ہے تو ایرانی حکام بہت اچھا ڈراما کررہے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام اہم معاملات پر حتمی منظوری کے لیے سپریم لیڈر سے دوبارہ بات کرنے کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں یقین ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر جسم کے بائیں جانب سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔



