health & Foodlatest news

پمز نرسری: آگ اتنی شدید تھی تو کسی ڈاکٹر کو نقصان کیوں نہیں پہنچا ؟

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں بدھ کی صبح پیش آنے والی آتشزدگی میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد متاثرہ ماؤں اور لواحقین نے طبی عملے کی موجودگی، ہنگامی انتظامات اور بچوں کو بروقت نکالنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

حکام کے مطابق آگ گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں لگی، جہاں نومولود بچے انکیوبیٹرز میں موجود تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق انکیوبیٹر کے ساتھ نصب آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر میں چنگاری سے آگ بھڑکی، جبکہ آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ نے چند ہی سیکنڈز میں شدت اختیار کرلی۔

پمز انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کے بعد ڈیوٹی پر موجود دو ڈاکٹروں، دو نرسوں اور سیکیورٹی اہلکار نے فوری امدادی کارروائی شروع کی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک نومولود، ملحقہ کمرے سے چار بچوں اور تین ماؤں سمیت گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بحفاظت نکالا گیا، جبکہ آگ بجھانے کے لیے 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے۔

انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی کے دوران نرسری کی چھتیں بھی گر گئیں، تاہم تمام ایمرجنسی راستے کھلے اور فعال تھے۔ واقعے کی مختلف فورمز پر تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب ایک متاثرہ ماں نے اسپتال میں طبی عملے کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آگ لگنے کے وقت گائنی وارڈ میں نہ کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی، نہ نرس اور نہ ہی نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ کا ڈاکٹر موجود تھا۔

خاتون کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر رمشا اور این آئی سی یو کے دو ڈاکٹر وہاں پہنچے، جو ان کے بقول نیچے سے بھاگتے ہوئے وارڈ کی جانب آرہے تھے۔ متاثرہ ماں نے سوال اٹھایا کہ این آئی سی یو کو لاک کرکے کیوں چھوڑا گیا تھا اور اس کا دروازہ لاک کیوں تھا۔

خاتون نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر آگ اتنی شدید تھی تو کسی ڈاکٹر کو نقصان کیوں نہیں پہنچا اور صرف نومولود ہی کیوں متاثر ہوئے۔

سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک جانب سرکاری سطح پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب پمز انتظامیہ نے فائر سیفٹی اور امدادی کارروائیوں سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ دونوں مؤقف میں سامنے آنے والے فرق کے باعث واقعے کے حالات اور ہنگامی انتظامات کی مکمل جانچ مزید اہم ہوگئی ہے۔

واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں میں ایک خاندان کے جڑواں بچے بھی شامل ہیں۔ جاں بحق بچوں کے جسد خاکی قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کیے جاچکے ہیں، جبکہ واہ کینٹ میں ایک جاں بحق نومولود بچی کی نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی، جس کے بعد اسے سپرد خاک کردیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button