latest newsWorld

گوگل اور برطانوی حکومت کا طیاروں کی سفید لکیروں کے تدارک کے لیے منصوبہ

لندن: گوگل اور برطانوی حکومت نے طیاروں کے فضا میں سفید لکیریں، جنہیں کونٹریلز کہا جاتا ہے، بننے کے عمل کو روکنے یا کم کرنے کے امکانات جانچنے کے لیے مشترکہ منصوبے پر کام شروع کردیا۔

’آپریشن بلیو اسکائی‘ نامی منصوبے کے تحت برطانیہ کی شن وِک ایئر اسپیس میں ایک آزمائشی پروگرام کیا جائے گا، جس میں طیاروں کے پرواز کے راستے اور بلندی میں معمولی تبدیلیاں کرکے کونٹریلز بننے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

کونٹریلز دراصل طیارے کے انجن سے خارج ہونے والے پانی کے بخارات کے انتہائی سرد فضا میں برف کے کرسٹل میں تبدیل ہونے سے بنتے ہیں۔ یہی کرسٹل آسمان پر سفید لکیروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ لکیریں براہِ راست انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں، تاہم ان کے ماحولیاتی اثرات پر تحقیق جاری ہے۔ بعض حالات میں کونٹریلز فضا میں بادلوں کی سطح بڑھا سکتے ہیں، جس سے زمین کے درجہ حرارت پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

منصوبے کے تحت تقریباً 30 ماہ تک طیاروں کے روٹس میں معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ موسمیاتی پیش گوئی کے ذریعے ایسے فضائی علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں کونٹریلز بننے کا زیادہ امکان ہو، جس کے بعد طیاروں کی پرواز کی بلندی میں تقریباً 2 ہزار فٹ تک تبدیلی کرکے اس عمل کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی پیش گوئی کے ماڈلز فراہم کیے جائیں گے، جن کی مدد سے کونٹریلز بننے کے لیے موزوں علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

سیٹلائٹ ڈیٹا اور مشین لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان پیش گوئیوں کے نتائج کی جانچ بھی کی جائے گی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پروازوں میں معمولی تبدیلیاں واقعی کونٹریلز کی تشکیل کو کم کرسکتی ہیں یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق آسمان پر بننے والی سفید لکیروں کے برقرار رہنے کا دورانیہ درجہ حرارت اور فضا میں نمی سمیت مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض کونٹریلز چند لمحوں میں ختم ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ طویل عرصے تک فضا میں موجود رہ سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button