
پمز سانحہ: فائر بریگیڈ رپورٹ میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے کا انکشاف
اسلام آباد: پمز اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی اموات سے متعلق سی ڈی اے کے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں اسپتال کے آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دے دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات مقررہ حفاظتی معیار کے مطابق نہیں تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں موجود تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پمز کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کی ابتدائی کارروائی میں بھی رکاوٹ پیدا کی، جبکہ جائے وقوعہ پر موجود ہجوم کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔
سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی اطلاع ملنے کے صرف 6 منٹ بعد پمز اسپتال پہنچ گئی تھی۔
دوسری جانب ریسکیو ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پمز میں فائر پوائنٹ پر پانی دستیاب نہیں تھا، فائر ہوز میں کپلنگز موجود نہیں تھے جبکہ ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈاکٹرز، وارڈ بوائے یا دیگر عملے میں سے کوئی موجود نہیں تھا۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے متعدد نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ ایئر کنڈیشن کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی۔
اسپتال حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو لیڈی ڈاکٹر بچانے میں کامیاب ہوئی جبکہ دیگر 15 نومولود جاں بحق ہوگئے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جو آتشزدگی کی وجوہات اور واقعے کے دیگر محرکات کا تعین کرے گی۔



