
نیپال، تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب، 95 افراد ہلاک، سیکڑوں سیاح لاپتا
نیپال اور چین کے علاقے تبت کی سرحد پر مٹی اور چٹانیں دریا میں گرنے کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک اور سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کو پیش آنے والے واقعے کے بعد نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں متعدد افراد کو سیلابی ریلے سے جان بچا کر بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
نیپال میں سیلابی ریلے کے باعث کئی مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے تباہ ہوگئے، جبکہ چین کے علاقے تبت میں مٹی کا تودہ گرنے سے گیرونگ کاؤنٹی اور سرحدی گزرگاہ متاثر ہوئی ہے۔
نیپال کی ٹورازم اتھارٹی کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 384 سیاح لاپتا ہیں، جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 12 برطانوی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کے 8 شہریوں کے بھی لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق سیلاب کے بعد اب تک 95 لاشیں نکالی جاچکی ہیں، جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
چینی سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق مٹی کا تودہ نیپال کی سرحد کی جانب گرا جس سے گیرونگ پورٹ متاثر ہوئی اور سرحدی علاقے میں سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق گیرونگ لینڈ کراسنگ پر 574 امدادی کارکن تعینات کیے گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے تک پہنچنے والے راستوں پر کئی فٹ تک مٹی اور ملبہ جمع ہے، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ رہے ہیں۔
سرحدی علاقے سے سامنے آنے والی سکیورٹی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مٹی، چٹانوں اور پانی کا ایک بڑا ریلہ تیزی سے آبادی کی جانب بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارتوں، گاڑیوں اور دیگر تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
دوسری جانب نیپال میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر بھارت کی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے، جہاں پہاڑی علاقوں سے آنے والے متعدد دریا میدانی علاقوں کی جانب بہتے ہیں۔


